​خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی!


 تحریر:۔ شفقت اللہ

کل شب میں نے ایک خواب دیکھا ۔خواب میں محمد بن قاسم مجھ سے مخاطب تھا اور کہنے لگا، ارے تم سوئے ہوئے ہو! میں نے کہا جی حضور شام ڈھل چکی ہے سونے کا ہی وقت ہے اور رات تو ویسے ہی اللہ نے آرام کیلئے ہی بنائی ہے توکہنے لگے کیا؟
 شام ڈھل چکی ہے !لیکن کب؟ میں بڑا ششدر ہوا کہ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں جب رات ہو گئی ہے تو سب کو ہی نظر آتی ہے ان کو کیوں نہیں نظر آرہی ہے !میں نے کہا بڑے میاں آپ ایسے کیوں پوچھ رہے ہیں سارا عالم سو رہا ہے مشرق سارے میں رات چھائی ہے لوگ اپنے کاموں سے لوٹ آئے ہیں اور اب تھک ہار کر چین کی نیند سو رہے ہیں ۔
 محمد بن قاسم پوچھنے لگے کہ یہ کیسا چین و سکون ہے کہ ہر طرف آگ لگی ہے اور لوگ بے خبر سو رہے ہیں، انہوں نے مجھے اپنی کہانی سنائی کہ کس طرح انہیں سندھ سے ایک خط والی بہن نے مدد کیلئے پکارا تھا اور وہ ہزاروں میل دور سے سفر کر کے سندھ آ کر انہوں نے ظالموں کو نیست نابود کیا تھا جبکہ ان کے پاس زادِ راہ فقط کھجوریں اور پانی تھا ۔اورحاکمِ وقت نے ان سپاہیوں کی گردنیں اڑا دیں تھیں جو میرے ساتھ اس جہاد کیلئے آنے کو تیار نہیں تھے اور وہ عذر بنا رہے تھے ۔لیکن یہ کیسے حکمران ہیں کہ دولت بھی ہے ،سپاہی بھی ہیں، ہتھیار بھی ہے اور طاقت بھی لیکن جس طرف نظر دوڑاؤ صرف امت مسلمہ ہی ذلیل و خوار ہو رہی ہے صرف انہی پر ہی آگ برسائی جا رہی ہے جہادیوں کو دہشتگرد قرار دے کر شہید کر دیا جاتا ہے تو کہیں نہتے مظلوموں سے زندگی کا حق چھین لیا جاتا ہے اس وقت کشمیر ،شام ،عراق ،پاکستان ، ایران، افغانستان غرض یہ کہ پوری مسلم دنیا میں ہر طرف آ گ لگی ہوئی ہے اور ا س آگ کی گرمی میری قبر تک جا پہنچی ہے یہی وجہ ہے کہ میں آج تڑپ کر تیرے پاس چلا آیا ہوں کہ اپنی آہ تمہارے سامنے بیان کر سکوں ۔
دیکھو چاہے جمہوریت ہو یا نہ ہو ہمیں تو بس اتنا سا پتہ ہے کہ حکمران اچھا ہونا چاہئے اور رعایا خوشحال رہے لیکن ان اسلام دشمنوں نے مسلمانوں کو دی گئی اللہ کی بیش بہا نعمتیں چھین لینے کا مذموم عزم کر رکھا ہے جہاں بھی اللہ کی بیش قیمتی نعمتیں دیکھتے ہیں ٹوٹ پڑتے ہیں اور ہوا یہ پھیلا دیتے ہیں کہ آمریت نہیں جمہوریت کا نفاذ ضروری ہے لیکن اس کی آڑ میں وہاں کیا ہوتا ہے!

لیبیا ،مراکش اور تیونس کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جب تحریر اسکوائر لکھی گئی تھی اور اب لیبیا کے حالات دیکھیں ،عراق اور شام اور پھر تیونس کے حالات دیکھیں ،وہ خوشحالی وہ رونقیں سب کو نظر لگ چکی ہے اب کچھ بھی نہیں رہا اور جو تھوڑا بہت معاشی استحکام ہے

وہ بھی وہا ں پر اللہ کے بیش قیمتی خزانوں کی فراوانی کی وجہ سے ہے لیبیا ،عراق ،شام اورتیونس کا تیل ساری دنیا میں مشہور اور منفرد اہمیت کا حامل ہے جب تک ان لوگوں کے پاس تیل کو بنانے کیلئے ریفائنریز نہیں تھیں تب تک وہ مجبوراََ امریکہ اور دیگر ایسے ممالک کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور رہے لیکن جیسے ہی انہوں نے بھی ریفائنریز لگا لیں اور خود سے عالمی منڈی میں تیل کی فروخت شروع کر دی جس سے امریکہ جیسے بنیوں کو بہت بڑا دھچکا لگا یہ دھچکا ان سے برداشت نہیں ہوا اور ان ممالک پر دہشتگردی اور انتہا پسندی کے الزاما ت لگا کر انہیں آگ میں جھونک دیا لیبیا کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا ۔
پاکستان کے آزاد ہونے کے نو سال تک بغیر آئین و قانون سے چلتا رہا لیکن جب ایوب خان نے مارشل لاء لگایا تو پہلی دفعہ پاکستان میں بھی آئین و قانون کی بات ہوئی پاکستان بھی مستحکم ہو گیا یہاں تک کہ پاکستانی روپیہ بھارتی روپے کی نسبت مستحکم ہو گیا اور جرمنی کو پاکستان نے امداد کے طور پر کروڑوں روپے بھی دئیے لیکن بعد میں جمہوریت کے جھوٹے خوابوں کی آڑ میں ان چند اشرافیہ نے قبضہ کر رکھا ہے جن کے مال و اولاد سب امریکہ جیسے ممالک میں مقیم ہیں ۔اب برما کا بھی وہی حال ہے جس کی قیمتی لکڑی اور وسائل امریکہ اور عالمی طاقتوں کی گلے کی ہڈی بن چکے ہیں حال ہی میں پھر سے ہلاکتوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
پانچ سو سے زائد مسلمانوں کو بن جلائی آگ میں جھونک دیا گیا اور پچاس ہزار سے زائد مسلمان ہجرت کر بنگلہ دیش چلے گئے ہیں انتہا پسندی کے نام پر امت مسلمہ پر آگ کا قہر برسایا جا رہا ہے اقوامِ متحدہ سوائے رپورٹ بنانے کے کچھ نہیں کر پار ہی اور افسوس سب سے زیادہ اس بات کا ہے حجاج بن یوسف جیسا حکمران جو ہم پر مسلط تھا آج نہیں ہے کبھی ایک او آئی سی بنایا گیا تھا جب سعودی عرب پر دشمنوں نے چڑھائی کی کوشش کی اور حال ہی میں پھر سے انتالیس ملکی اتحاد قائم کیا گیا لیکن شائد وہ بھی صرف سعودی شہزادوں کی حفاظت تک ہی محدود ہے اور انتہائی ظلم کی بات یہ کہ سوائے ترکی کے کسی ملک یا اقوامِ متحدہ نے ان مظالم کے خلاف آواز بلند نہیں کی کرتے بھی کیوں کئی اسلامی ممالک خود اس کارگزاری میں شریک ہیں کیونکہ انہیں پیسہ مل رہا ہے اور اقوام متحدہ کے صاحبِ اختیار خود یہ سب کروانے والے ہیں اب بھلا کوئی کیسے آواز بلند کرے؟ 
محمد بن قاسم کی آنکھوں سے آنسو چھلک رہے تھے اور لہجہ رندھ چکا تھا امت مسلمہ کی حالت پر گفتگو کرتے ہوئے او ر میں ا ب تک

اس کی باتوں میں الجھا ہوا ہوں کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے پاس سپاہی بھی ہیں ، دولت بھی ہے ،طاقت بھی ہے اور ہتھیار بھی ہیں لیکن شاید ایمان نہیں ہے۔میری سمجھ میں جو اس کی بنیادی وجہ آتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہم کشمیر ،فلسطین یا لیبیا کے مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائیں تو امریکہ ناراض ہوتا ہے اگر میانمار میں جو بدھ مت مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں اگر ان کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھانے کی سوچیں تو بدھ متوں کی حمایت میں چین کی ناراضگی کا ڈر ہمیں کھائے جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی طاقت ہونے کے با وجود ہماری حیثیت اس بیچارے کی سی ہے جو تندرست ہونے کے با وجود در، در صدا بلند کرتا ہے اور اپنی کئی جگہ سے ہونے والی بے عزتی پر شرمندہ ہو کر محنت مزدوری کرنے کی بجائے اس پر فخر کرتا ہے ۔جب تک ہم اپنے فیصلے خود نہیں کریں گے اور امتِ محمدی سے بڑھ کر کسی امریکہ چین وغیرہ کی دوستی کو اہمیت نہیں دیں گے تب تک مسلمان ایک قوم نہیں بن سکے گی جو اصل امتِ مسلمہ ہے ۔علامہ اقبال نے یہ نسخہ پہلے ہی بتا دیا تھا : 

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر 

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
Share on Google Plus

About Maemuna Sadaf

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment

0 comments:

Post a Comment